یہ ایک ایسے دوستانہ میچ کی طرح تھا جو بآسانی یادداشت سے فراموش ہو سکتا تھا۔یہ 20 اگست 2003 کی رات تھی اور سیزن کے آغاز میں پرتگال اور قازقستان کی ٹیمیں پرتگال کے شمالی شہر شاویش میں مدِمقابل تھیں۔یہ مقابلہ آٹھ ہزار تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں ہوا اور میدان کی حالت اتنی خراب تھی کہ اسے بہتر کرنے کے لیے گھاس کو رنگ کرنا پڑا۔
پرتگال یہ میچ ایک، صفر سے جیت گیا اور یہ وہ فتح تھی جو آنے والے برسوں میں لوگوں کے ذہن میں نقش بھی نہ رہتی اگر کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کے لیے اپنا پہلا میچ نہ کھیل رہے ہوتے۔اس وقت یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ پرتگال کے علاقے مادیرا سے تعلق رکھنے والا یہ 18 سالہ لڑکا صرف تین سال بعد ورلڈ کپ میں ڈیبو کرے گا اور یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سنہ 2026 میں ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں پرتگال کی نمائندگی کر رہا ہو گا۔رونالڈو فٹبال کے عالمی مقابلوں میں 143 گول سکور کر کے تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ اُنھوں نے پرتگال کی ٹیم کو ازسرِ نو تشکیل دیا اور اس کی ذہنیت کو اس انداز سے بدلا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔رونالڈو کے ساتھ کام کرنے والے فٹبال کوچ ژواں آروشو نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ پرتگال ایک چھوٹا ملک ہے جس کی عالمی سطح پر پہچان فٹبال کی وجہ سے ہی ہے اور یہ پہچان دلوانے میں رونالڈو کا اہم کردار ہے۔پچھلے پانچ ورلڈ کپ مقابلوں کی طرح امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں رواں ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی 41 سالہ رونالڈو پرتگال کی اُمیدوں کا مرکز اور ایک بڑے سپر سٹار کے طور پر ہی اُتریں گے۔ حالانکہ سنہ 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ٹیم میں اُن کی موجودگی پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔





