لاہور ریس کلب کے سیکریٹری شہزاد اختر کے مطابق موجودہ سیزن میں اویس انجم سب سے کامیاب جوکی ہیںلاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر باقی شہر سے الگ تھلگ لاہور ریس کلب اپنے اندر ایک وسیع دنیا ہے۔ یہاں ہر اتوار کو گھڑسواری کا میدان سجتا ہے تو مرکز نگاہ کروڑوں کی قیمت میں بکنے والے غیر ملکی گھوڑوں کی چال، ان کی نسل اور ان کے امیر مالک ہوتے ہیں۔
لیکن قسمت اور پیسے سے جڑے اس کھیل کے اصل کردار وہ جوکی یعنی سوار ہوتے ہیں جن کی چند سو میٹر کی ریس کے پیچھے چھپی ہوئی برسوں کی محنت اور بھوک کم ہی لوگوں کو نظر آتی ہے۔ایسے ہی ایک کردار نوجوان اویس انجم بھی ہیں جو کبھی وکیل بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے لیکن پھر 14 سال کی عمر میں ایک دن ریس کے سحر کے شکار ہو کر اسی دنیا کا حصہ بن گئے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’تالیوں کا شور اور ریس جیتنے پر جوش دیکھ کر میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں بھی جوکی ہی بنوں گا۔‘ یہ فیصلہ اویس کے لیے زیادہ مشکل اس لیے نہیں تھا کیوں کہ ایک طرح سے ریس جوکی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ اویس کے والد اور دادا بھی جوکی تھے۔چھ سال بعد اویس انجم ایک چیمپیئن جوکی بن چکے ہیں جو ڈربی سمیت مختلف کیٹگریز کی 300 سے زیادہ ریسیں جیت چکے ہیں۔ لاہور ریس کلب کے سیکریٹری شہزاد اختر کے مطابق موجودہ سیزن میں اویس انجم سب سے کامیاب جوکی ہیں۔

اویس انجم اپنے والد کے ساتھ
جس دن لاہور ریس کلب میں ہماری اویس سے ملاقات ہوئی، اس دن بھی انھوں نے تین ریسوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔لیکن ریس جوکی کیسے بنتے ہیں؟ گھوڑے اتنے مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟ پاکستان میں ایک جوکی اس مہنگے کھیل سے کتنا پیسہ کماتا ہے؟ اور اس کھیل میں محنت اور بھوک جوکی کے لیے کیوں اہم ہیں؟ یہ کہانی اویس کی زبانی ہی سنتے ہیں۔گھڑدوڑ یا ریس کسی بھی مالک کے لیے ایک مہنگا شوق ہے جبکہ جوکی کے لیے خطرات سے بھرپور۔ لیکن اس کے باوجود جیت کا جنون اور انعام کی رقم دونوں کو ہی پیسے اور قسمت کو آزمانے پر مجبور کرتے ہیں۔






