مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ایک نئی ٹیکنالوجی ایسے مردوں میں سپرم خلیات تلاش کر رہی ہے جنھیں بتایا گیا تھا کہ ان میں سپرم (نطفہ) موجود نہیں۔یہ نومبر 2025 کے اوائل کی بات ہے جب امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں کام سے گھر واپسی کے دوران پینیلوپی کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ فون پر ان کے ڈاکٹر تھے، انھوں نے پینیلوپی کو وہ خبر دی جس کا انھیں مدت سے انتظار تھا۔ ڈھائی برس کی طویل اور اذیت ناک جدوجہد کے بعد پینیلوپی آخرکار حاملہ ہو گئی تھیں۔
متعدد طبی معائنوں کے بعد پینیلوپی اور ان کے شوہر سیموئل کو معلوم ہوا کہ سیموئل کو کلائن فیلٹر سنڈروم ہے۔ یہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جو اُن مردوں کو متاثر کرتی ہے جو اضافی ایکس کروموسوم کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اکثر اس کی تشخیص جوانی تک نہیں ہو پاتی۔کلائن فیلٹر سنڈروم کے شکار زیادہ تر افراد کی منی میں سپرم بہت کم یا بالکل نہیں ہوتا، جسے طبی طور پر ایزوسپرمیا کہا جاتا ہے۔ بانجھ پن کا سامنا کرنے والے مردوں میں سے تقریباً 10 فیصد ایزوسپرمیا کا شکار ہوتے ہیں۔خوشی اور حیرت سے مغلوب پینیلوپی نے اُس شام سیموئل کے گھر لوٹنے تک انتظار کیا تاکہ یہ خبر اُن کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ (رازداری کے تحفظ کے لیے دونوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔)پینیلوپی کہتی ہیں کہ ’ان کے چپرے پر بے پناہ جذبات تھے۔۔ وہ رونے لگے۔ اس مرحلے تک پہنچنے میں بے پناہ محنت، وقت اور تحقیق لگی اور یہ کہ ہمارے پاس صرف ایک ایمبریو تھا اور ہمیں کامیابی ملی۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔‘
یہ حمل ایک نئی تکنیک کی بدولت ممکن ہوا، جسے سٹار (سپرم ٹریک اینڈ ریکوری) سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ نظام کولمبیا یونیورسٹی نے ایزوسپرمیا کے شکار مردوں میں سپرم کے سراغ کے لیے تیار کیا۔یہ نظام مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اُن چند ’پوشیدہ‘ سپرم خلیات کی نشاندہی اور تلاش میں مدد دیتا ہے جو اس کیفیت کے باوجود بعض مردوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔






