زندگی کے آخری لمحات میں کسی شخص کا ہاتھ تھامنے سے زیادہ بامعنی چیز رِیٹا بال کے لیے کوئی اور نہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’یہ لمحہ بالکل خالص ہوتا ہے جب آپ اس زندگی کو دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘
بال کئی بار کسی شخص کی آخری سانس کے وقت ان کے ساتھ موجود رہی ہیں۔ پچھلے تین برسوں سے بال لندن میں تربیت یافتہ ’ڈیتھ ڈولا‘ (زندگی کے آخری لمحات میں معاون) کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ آخری وقت کی ساتھی کے طور پر وہ این ایچ ایس کے لیے کیئر ہومز میں انفرادی خاندانوں اور رضاکاروں کی مدد کرتی ہیں۔بال کے مطابق لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ جب ان کے پیارے موت کے عمل سے گزر رہے ہوں تو وہ کیا کرنے کی ’اجازت‘ رکھتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں کہتی ہوں کہ انھیں تھامنا، بوسہ دینا، موسیقی چلانا، ان سے بات کرنا بالکل ٹھیک ہے تو مجھے لوگوں میں حقیقی سکون محسوس ہوتا ہے۔‘آپ نے شاید اُن مڈ وائف یا دائی کے بارے میں سنا ہو جو ماؤں کو حمل اور زچگی کے مرحلے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن ’ڈیتھ ڈولا‘ جنھیں بعض اوقات ’سَول مڈوائف‘ بھی کہا جاتا ہے، گذشتہ 10 برسوں میں مقبول ہو رہی ہیں۔’اینڈ آف لائف ڈولا‘ یوکے کی چیف ایگزیکٹو ایما کلیئر کہتی ہیں کہ 2025 میں ان کی تنظیم میں 114 ڈولا شامل ہوئیں جو پچھلے برسوں کے مقابلے میں بڑی تعداد ہے۔






