پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے وسطی اور جنوبی حصوں میں سات سے 11 مئی تک جبکہ بالائی علاقوں میں آٹھ سے 10 مئی کے دوران گرمی کی شدید لہر کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے یہ انتباہ محکمہ موسمیات کی اس پیش گوئی کے بعد جاری کیا ہے جس کے مطابق بالائی فضا میں زیادہ دباؤ کے باعث درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے۔حکام کو خدشہ ہے کہ اس دوران کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور درجہ حرارت 35 سے 38 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدر آباد میں شدید گرمی سے کم از کم ایک، ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ تاہم فلاحی اداروں ایدھی اور چھیپا نے ہیٹ سٹروک سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 سے زیادہ بتائی تھی۔محکمہ آفات سندھ کے مطابق صوبے میں ایک ہزار سے زیادہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔دریں اثنا محکمہ موسمیات کا امکان ہے کہ ملک کے بالائی حصوں میں 10 مئی کی شب سے گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔
27 اپریل کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ ملک کے موسمیاتی ریکارڈ کے مطابق مئی اور جون سال کے سب سے گرم مہینے ہوتے ہیں۔ان مہینوں کے دورن جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور جنوبی و مشرقی بلوچستان ملک کے زیادہ گرم رہنے والے علاقے ہیں جہاں ہیٹ ویو کی صورت میں درجہ حرارت بعض اوقات کچھ علاقوں میں 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔







